عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إذا عَطِسَ أحدكم فَلْيَقُلْ: الحمد لله، ولْيَقُلْ له أخوه يرحمك الله؛ فإذا قال له: يرحمك الله؛ فَلْيَقُلْ: يهديكم الله، ويُصْلِح بالكم».
[صحيح.] - [روه البخاري.]
المزيــد ...

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی چھینکے تو ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ کہے، اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی ’يَرْحَمُكَ اللَّهُ‘ (اللہ تجھ پر رحم کرے) کہے، جب ساتھی ’يَرْحَمُكَ اللَّهُ‘ کہے تو اس کے جواب میں چھینکنے والا ’يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ‘ (اللہ تمھیں سیدھے راستے پر رکھے اور تمہارے حالات درست کرے) کہے“۔
صحیح - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

شرح

چھینک ،ایک بڑی نعمت ہے اور اس کی بناء پر جسم کے بخارات باہر نکل آتے ہیں اور اس کو روکنے کی صورت میں جسم میں سستی و کسل مندی پیدا ہوجاتی ہے، اسی بناء پر چھینکنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے کہ اس نے ان بخارات کو جسم سے خارج کرنے میں آسانی پیدا فرمائی اور یہ کہ چھینک کا آنا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور جمائی کا آنا شیطان کی جانب سےہوتا ہے۔ چنانچہ چھینک، انسانی جسم کی چستی پر دلالت کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ چھینکنے کے بعد انسان کو راحت ملتی ہے۔ چھینکنے والے کے ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ کو سننے والا ’يَرْحَمُكَ اللَّهُ‘ کہے گا اور یہ اس شخص کو دی جانے والی موزوں دعاء ہے جس کے جسم کو عافیت سے نوازا گیا، پھر چھینکنے والا جواب میں ’يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ‘ کہے گا۔ خیال رہے کہ یہ نبی ﷺ کی جانب سے بیان کردہ ان حقوق میں سے ہے کہ اگر لوگ باہم دیگر اس پر عمل پیرا ہوجائیں تو اس کے سبب ان میں الفت و مودت عام ہوجائے گی اور دلوں اور نفوس میں پائے جانے والے کینوں اور بغض و عداوتوں کے جذبات کا خاتمہ ہوجائے گا۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی کردی ہاؤسا پرتگالی
ترجمہ دیکھیں