عن أبي أمامة صُدَيّ بن عجلان الباهلي -رضي الله عنه- سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يخطب في حجة الوداع، فقال: « اتقوا الله وصلَّوا خَمْسَكُمْ، وصوموا شهركم، وأَدُّوا زكاة أموالِكم، وأطيعوا أُمَرَاءَكُمْ تدخلوا جنة ربكم ».
[صحيح.] - [رواه الترمذي وأحمد.]
المزيــد ...

ابو امامہ صدی بن عجلان باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃُ الوداع کے موقع پر خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ سے ڈرو، اپنی پانچ نمازیں پڑھو، اپنے ایک مہینے کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکوۃ ادا کرو، اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے“۔
[صحیح] - [اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]

شرح

اس حدیث کا شمار بھی ان حادیث میں ہوتا ہے، جن میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے، اس کے احکام کی بجا آوری اور اس کی منع کردہ چیزوں سے باز رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ حدیث آپ ﷺ کی زندگی کے آخری ایام کی ہے، جب کہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیھم کو بہت ساری نصیحتیں اور وصیتیں کیں اور ان کے حق میں جو بہتر اور جو ان پر وبالِ جان تھا، اس کے متعلق نصیحت کی، اورانھیں نصیحتوں میں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کی، جیسا کہ فرمایا:"اے لوگو اپنے رب سے ڈرو"۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے جہاں فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ﴾ ”اے لوگو اپنے رب سے ڈرو“ (النساء:1) آپ ﷺ نے سب کو یہ حکم فرمایا کہ وہ اپنے اس رب سے ڈریں، جس نے سب کو پیدا کیا اور انہیں اتنی نعمتیں عطا کیں کہ انکا شمار اور احاطہ نہ کیا جا سکے۔ ایک اور حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبئ کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور کہا:یا رسول اللہ! مجھے نصیحت کیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تقویٰ اختیار کرو۔ بے شک تقویٰ تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے“۔ اسی طرح آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”اکثر لوگ، اللہ سے تقویٰ اختیار کرنے اور حسنِ اخلاق کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے“۔ فرمانِ رسول ﷺ ”وَصَلَّوا خَمْسَكُمْ“ سے نماز پنجگانہ ادا کرو مراد ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر فرض کی ہیں۔ کیوں کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اور آپ ﷺ کا فرمان ”وَصُومُوا شَهْرَكُمْ“ اس سے مراد رمضان کا مہینہ ہے، جس میں امت پر رنگ رنگ کی نعمتوں، اور جہنم سے خلاصی اور بہت زیادہ ثواب کی عطا کے ذریعہ رحمت وکرم کی فراوانی کی جاتی ہے۔ اورفرمانِ رسول ﷺ ”وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ“ سے مراد یہ ہے کہ زکاۃ مستحق لوگوں کو دو اور اس میں بخل نہ کرو۔ یہ حدیث تین ارکانِ اسلام کو شامل ہے اور اس میں حج کو ذکر نہیں فرمایا گیا؛ کیوںکہ مذکورہ چیزوں سے روز اور سال بھر واسطہ پڑتا ہے، تو ان کی ادائیگی (سست ہمتوں پر) بوجھ بنتی ہے۔ چنانچہ ان کی خصوصی تلقین اور وصیت فرمائی۔ اور آپ ﷺ کے قول ”وَأَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ“ سے مراد خلیفۂ وقت، بادشاہ، ان کے علاوہ دیگر امرا اورعلماء ہیں۔ البتہ یہ خیال رہے کہ مخلوق کی اطاعت، خالق کی نافرمانی میں نہیں کرنی چاہیے۔ ایک اور حدیث میں ہے: ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے، فرماں برداری اور اطاعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں“۔ (ابوداود، ترمذی)

ترجمہ: انگریزی زبان ہسپانوی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج
ترجمہ دیکھیں