عن أبي أمامة -رضي الله عنه-: أن رجلًا، قال: يا رسول الله، ائْذَنْ لي في السِيَاحَة! فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: «إن سِيَاحَة أُمَّتِي الجِهاد في سَبِيلِ الله -عز وجل-».
[صحيح.] - [رواه أبو داود.]
المزيــد ...

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کی سیاحت، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے“۔
صحیح - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

شرح

حدیث کا مطلب: ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے اجازت مانگی کہ سیر کی غرض سے مختلف شہروں میں جائے اور زمین میں سفر کرے۔ یہاں مراد بطور عبادت سیر وسیاحت ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کی سیر و سیاحت، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ہے“ یعنی جب تم (عبادت کی غرض سے) سیر کرنا چاہو، تو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلو، میری امت کی سیر اسی میں ہے۔ اس لیے کہ اس سے اللہ کے دین کی اشاعت اور اس کے عظیم بنیادی اصولوں کو پختگی فراہم ہوگی۔ جب کہ عبادت کی نیت سے گھروں کو چھوڑ دینا اور اہل وعیال سے دور چلے جانا، یہ اسلام میں ممنوع ہے اور کم از کم مکروہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ﴾ ”بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز کیوں طلب کرتے ہو؟“ اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے : ”جہاد کو اپنے اوپر لازم کرلو، کیوں کہ یہ اسلام کی رہبانیت ہے“۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ویتنامی سنہالی ایغور ہاؤسا
ترجمہ دیکھیں