عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- قال: «لعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- زائرات القبور، والمتخذين عليها المساجد والسرج».
[حسنه الألباني في المشكاة وضعفه في السلسلة الضعيفة وإرواء الغليل وضعيف الجامع وأحكام الجنائز وتمام المنة.] - [رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وأحمد.]
المزيــد ...

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:’’رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبروں کو عبادت گاہیں بنانے والوں اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت بھیجی ہے‘‘۔

شرح

رسول اللہ ﷺ ان عورتوں کے حق میں لعنت کی دعا کر رہے ہیں جو قبروں کی زیارت کرتی ہیں۔ لعنت سے مراد ہے اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کر دیے جانے کی دعا کرنا۔ کیونکہ عورتوں کے قبروں پر آنے سے بہت سی برائیاں جنم لیتی ہیں جیسے نوحہ کرنا اور رونا دھونا اور اس کی وجہ سے مردوں کا فتنے میں پڑنا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی جو قبروں کو عبادت گاہیں بنا لیتے ہیں یا پھر انہیں چراغوں اور قمقموں سے روشن کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک طرح سے قبروں کے معاملے میں غلو ہے اور اصحاب قبر کے ساتھ شرک کی طرف لے جاتا ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ہسپانوی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان
ترجمہ دیکھیں