عن عبد الله بن عباس -رضي الله عنهما- قال: قول الله تعالى: (ألم تر إلى الذين يزعمون أنهم آمنوا بما أنزل إليك وما أنزل من قبلك يريدون أن يتحاكموا إلى الطاغوت) "نزلت في رجلين اختصما، فقال أحدهما: نترافع إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-، وقال الآخر: إلى كعب بن الأشرف، ثم ترافعا إلى عمر، فذكر له أحدهما القصة، فقال للذي لم يَرضَ برسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أكذلك؟ قال: نعم، فضربه بالسيف فقتله".
[ضعيف جداً وقد أشار الإمام الشيخ محمد بن عبد الوهاب إلى ضعفه بقوله: "وقيل...". وقال ابن حجر: ذكره الثعلبي من رواية الكلبي عن أبي عاصم عن ابن عباس -رضي الله عنهما-.] - [رواه الواحدي والبغوي.]
المزيــد ...

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان کہ: ’’ ألم تر إلى الذين يزعمون أنهم آمنوا بما أنزل إليك وما أنزل من قبلك يريدون أن يتحاكموا إلى الطاغوت‘‘۔ ترجمہ:’’کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا؟ جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وه اپنے فیصلے غیراللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں‘‘۔ ایسے دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوا جن کے مابین جھگڑا تھا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس اپنا مقدمہ لے کر جاتے ہیں۔ دوسرا کہنے لگا کہ کعب ابن اشرف کے پاس اپنا مقدمہ لے کر جاتے ہیں۔ بعدازاں وہ اپنا مقدمہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے۔ ان میں سے ایک نے آپ کو ساری بات بتائی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے پوچھا جو رسول اللہ ﷺ کو فیصل بنانے پر راضی نہیں ہوا تھا:کہ کیا ایسے ہی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر عمر رضی اللہ نے اسے تلوار سے مار کر قتل کر دیا‘‘۔

شرح

اس اثر میں آیت کریمہ {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ} کا شان نزول بیان کیا گیا ہے کہ بشر نامی منافق کا ایک یہودی کے ساتھ (کسی بات پر) جھگڑا ہو، ان میں سے ایک نے کہا: ہم نبیﷺ کے پاس اپنا فیصلہ کروائیں گے اور دوسرے نے کہا: ہم کعب بن اشرف یہودی سے اپنا فیصلہ کروائیں گے۔ جب بات عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی اور وہ اس کی تحقیق کر چکے تو انہوں نے اس شخص کو قتل کر دیا جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوا تھا۔ جب کہ اس کے شان نزول کے بارے میں دوسرا قول امام شعبی سے مرسل طریق سے منقول ہے کہ منافقین اور یہود میں سے دوآدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوا، چنانچہ یہودی نے کہا کہ ہم محمد سے فیصلہ کرائیں گے، کیونکہ اسے پتہ تھا کہ آپ ﷺ رشوت نہیں لیتے اور منافق نے کہا کہ ہم یہود کے پاس فیصلہ کرائیں گے، کیونکہ اسے پتا تھا کہ وہ لوگ رشوت لیتے ہیں، چنانچہ دونوں اتفاق کرکے جہینہ (قبیلہ) کے ایک کاہن کے پاس گئے۔ اوراس پر یہ آیت نازل ہوئی{أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ } ’’کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا؟ جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وه اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں‘‘۔[سورہ نساء:4]

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ہسپانوی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان
ترجمہ دیکھیں