عن إبراهيم النخعي: "أنه يكره أن يقول: أعوذ بالله وبك، ويجوز أن يقول: بالله ثم بك، قال: ويقول: لولا الله ثم فلان، ولا تقولوا ولولا الله وفلان".
[لم أجد له حكماً عند الألباني.] - [مصنف عبد الرزاق.]
المزيــد ...

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ ناپسند اور ناجائز ہے کہ کوئی یوں کہے: ”أَعُوْذُ بِاللَّهِ وَبِكَ“ (میں اللہ اور تیری پناہ میں آتا ہوں)، اس کی بجائے اس کے لیے یہ کہنا جائز ہے: ”أَعُوْذُ بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ“ (میں اللہ کی اور اس کے بعد پھر تیری پناہ میں آتا ہوں)۔ اور فرماتے: ” لَوْلَا اللهُ ثُمَّ فُلَانٌ“ (اگر اللہ نہ ہوتا اور پھر فلاں نہ ہوتا) کہہ سکتے ہیں، البتہ ” لَوْلَا اللهُ وَفُلَانٌ“ (اگرالله اور فلاں نہ ہوتا تو) کہنا جائز نہیں۔
[مجھے (اس کے بارے میں) شیخ البانی رحمہ اللہ کا کوئی حکم نہیں ملا۔] - [اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔]

شرح

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تابعین میں سے ہیں اور ان کے نزدیک مخلوق سے پناہ طلب کرنے کا اللہ سے پناہ طلب کرنے پر ”واو“ کے ساتھ عطف کرنا حرام ہے؛ کیوںکہ ”واو“ معطوف اور معطوف علیہ کے فعل میں اشتراک کا تقاضا کرتا ہے اور یہ بات اللہ کے ساتھ شرک کا سبب بنتی ہے۔ تاہم اسےشرک اصغر پر محمول کیا جائے گا۔ اسی طرح کسی منفعت کو اللہ کے فعل کے ساتھ معلق کرنا بھی حرام ہے بایں طور کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ہو، جیسے آپ یہ کہیں کہ: ”اگر اللہ اور فلاں شخص نہ ہوتا تو میں صحت یاب نہ ہوتا“۔ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے، تاہم حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث پر قیاس کرتے ہوئے ممانعت درست ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یوں نہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور جو فلاں چاہے، بلکہ یوں کہو کہ: جو اللہ چاہے اور پھر اس کے بعد جو فلاں چاہے“۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ہسپانوی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج
ترجمہ دیکھیں